Apna Work: 1 Number Automated Adsense Earning Program in Pakistan
- Make Money
Work At
Home - What is
Google
AdSense - Apply
AdSense
Account - Adsense
Account
Disabled - How Much
Earn Via
Adsense
گھر بیٹھے انٹرنیٹ پر کمائیں؟؟؟
تحریر: فیصل ملک ۔ اونر اپنا ورک ڈاٹ کوم
*اپنا ورک ڈاٹ کوم کے اونر فیصل ملک پاکستان کے بہت سے انٹرنیٹ و دیگر میگزین میں گھر بیٹھے انٹرنیٹ پر کمانے کے حوالے سے آرٹیکل تحریر کرتے ھیں، اور ھر ماہ سپر اسٹار ڈسٹ میگزین میں ان کے انٹرنیٹ ٹپس باقائدگی سے شائع ھوتے ھیں جن سے آپ بھی فائدہ حاصل کرسکتے ھیں۔
آجکل باکستان کے تمام بڑے اخبارات میں گھر بیٹھے انٹرنیٹ پر کمائیں کی پرکشش آفرز کے اشتہارات نوجوان طبقے اور خاص کر پارٹ ٹائم آمدنی کے خواہشمند افراد میں خاصے ھاٹ ھیں۔ تیز رفتار لائف میں کامیابی اور آمدنی کے شارٹ کٹ ہر اس انسان کی کمزوری رہی ھے جسے خود پر بھروسہ کم اور دوسرے کا دیاآسان آئیڈیا اپنے مسائل کا فوری حل نظر آتا ہے۔ یوں ان اشتہارات پر رابطہ کرنے والے افراد ناتجربہ کار لوگوں کی بھینٹ چڑھے اور مفت کا کام ھزاوں روپے ممبر شپ یا رجسٹریشن فیس ادا کرکے بھی نہ سیکھ اور سمجھ سکے اور نہ کجھ کما پائے، پھر نتیجہ یہ نکلا انٹرنیٹ پر کمایا ھی نہیں جاسکتا، گھر بیٹھے انٹرنیٹ پر کمائی ناممکن ھے، فراڈ ھے، دھوکہ ھے اور وقت کی بربادی۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ میں اعتماد اور یقین کیساتھ کہتا ھوں کہ گھر بیٹھے انٹرنیٹ پر کمایا جاسکتا ھے!!! مگر کیسے یہ ھے وہ اہم سوال جسں کے لیے آج میں نے قلم اٹھایا ھے۔
اس سے قبل کہ میں اس سوال کا جواب دوں آپ کیلے یہ جاننا بہت ضروری ھے کہ آخر میں اتنے یقین کیساتھ یہ چیلنج کیوں کررھا ھوں اس کے پیچھے میرا دس سال کا تجربہ ھے جی ھاں سن 2000 میں غیر ارادی طور پر انٹرنیٹ بزنس میں آیا جب نیٹ استعمال کرتے ھوئے یہ سوال زھن میں آیا کہ آخر کوئی کیوں ويب سائٹ بناتا ھے، کیوں اتنی بڑی رقم لگا کہ مفت معلومات کے مواقع دیتا ھے اور سب سے اھم یہ کہ بنانے والے کو اس کا کیا فائدہ ھے یہ انٹرنیٹ کا ابتدائی دور تھا اور ایک اچھی ويب سائٹ کم از کم 5000 امریکن ڈالر میں تیار ھوتی تھی، اس کے علاوہ ڈومین اور ھوسٹنگ کے سالانہ 500 ڈالر اور ھر ماہ ويب سائٹ اپ ڈیٹ رکھنے کے لیے ڈیولپر ڈیزائنر اور دوسرا ضروری اسٹاف بھی درکار ھوتا تھا جس پر ماہانہ خرچہ بھی لازمی ھے، سو میں اس سوال کا جواب حاصل کرنے میں لگ گیا کہ وہ امریکن قوم جو ٹائم از منی کے فلسفہ پر کامل یفین رکھتی ھے اور کیوں اتنی بھاری رقم نو انکم پروجیکٹ پر لگا رھی ھے۔
سچ پوچھیں تو اس سوال کا جواب پانے میں مجھے دو سال لگ گئے اور صرف یہ ہی معلوم ھو سکا کہ تین قسم کی ويب سائٹ زیادہ بن رھی ھیں، ایک جو ایمیل اکاونٹ آفر کرتی ھیں اور اخبار یا میگزین کی طرز پر اپنی ويب سائٹ کے لیے بڑے اداروں کے اشتہارات سے لاکھوں کماتی ھیں، دوسری وہ ھیں جو پروڈکٹ معلومات فراھم کرکے کریڈیٹ کارڈ کے زریعے اپنی پروڈکٹ فروخت کررھی ھیں یعنی نیٹ شاپ جو ای بزنس کہلاتا ھے، اور تیسری وہ ھیں جو پروڈکٹ اوردیگر ٹائپ کی اشیا فروخت کرنے والی بڑی ويب سائٹ جیسے ایی بے، ایمزن وغیرہ کا ایفیلی ایٹ ممبر بن کر اپنی ويب سائٹ پر ان کی پروڈکٹ مختلف انداز سے پرموٹ یا پببلییسٹی کرکے فروخت کرتے ھیں اور %50 تک کمیشن حاصل کرتے ھیں۔ یہ تھی جاننے کی ابتدا جس نے یہ سمجھایا کہ انٹرنیٹ پر کمایا جاسکتا ھے اور یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں، اس کے بعد انٹرنیٹ پر کمانے کی ایک عجب دنیا متعارف ھوتی گئ۔۔۔ آمدنی کے نئے باب روشن ھوتے رھے۔۔۔۔ ترقی کے نت نئے راستے معلومات میں اضافہ اور سوچ کو وسیع تر کرتے گئے۔۔۔۔
ایفیلی ایٹ پروگرام ک بعد میرے علم میں آیا ایک سی پی اے پروگرام بھی ھے یعنی کوسٹ پر ایکشن اس پروگرام کے تحت اپنی ويب سائٹ پر بینر لگائیں جس پر نئی نئی آفز آرھی ھونگی اور جو اس بینر پر کلک کرکے ويب سائٹ پر جا کہ خریدای کرے یا فارم فل کرے گا تو کچھ فیصد رقم آپ کو بھی ملتی ھے، اس ھی طرح ایک سی پی ایم پروگرام بھی تھا یعنی کوسٹ پر تھاوزینڈ مائل اس پروگرام کے تحت اپنی ويب سائٹ پر بینر لگائیں اور بینر ایک ھزار بار شو ھونے پر 10 تا 50 امریکی سینٹ ويب سائٹ آنر کو ادا کیے جاتے تھے، پھر ایک نیا پروگرام سی ٹی آر، سی پی سی، سی پی آئی، سی پی ڑی وغیرہ کے نام سے متعارف ھوئے ھر پروگرام میں ایک ويب سائٹ کا ھونا لازمی تھا جس پر کوئی بھی ڈالر کمانے والا پروگرام ممبر بن کہ چلایا جائے اور سو ڈالر ھونے پر پاکستان میں بیٹھے گھر کے ایڈرس پر بزریعہ چیک رقم وصول کی جائے۔ اس دور میں کمیشن جنکشن، ڈبل کلک، ایڈورٹائز، کلک بینک، ڈائریکٹ لیڈ، ویلیو کلک، فاسٹ کلک وغیرہ گھر بیٹھے انٹرنیٹ پراپنی ويب سائٹ سے ڈالر کمانے کے حوالے سے مقبول ترین تصور کی جاتی تھیں۔
سن 2003 گھر بیٹھے انٹرنیٹ پر ڈالر کمانے والوں کیلیے گولڈن سال کہا جاسکتا ھے جپ گوگل نامی ایک نئے سرچ انجن نے دو انوکھے پروگرام عوامی سطح پر متعارف کروائے گوگل ايڈ سينس اور گوگل ایڈورڈز، گوگل نے ان دونوں پروگرام کے طریقے بہت فرینڈلی رکھے جس کو اپنا اشتہار چلانا ھے گوگل ایڈورڈز کو رقم دے اور جس کو کمانا ھے وہ اپنی ويب سائٹ پر گوگل ايڈ سينس کا کوڈ لگائے، اشتہار پر کلک لگا اور ويب سائٹ مالک کو 2 سینٹ سے 5 ڈالر تک معاوضہ مل گیا، یوں جہاں اکاوئنٹ میں سو ڈالر ھوئے رقم بحفاظت آپ تک پہنچ گئی۔ گوگل ايڈ سينس کیا آیا لاکھوں ويب سائٹ آن لائن ھوگیں، گوگل نے موقع سے پورا فائدہ اٹھایا اور جو لوگ ويب سائٹ بنانا نہیں جانتے تھے ان کے لیے بلاگ کے نام سے ایک ایسی پروڈکٹ متعارف کی جس میں سب کچھ آٹو میٹیڈ تھا بس جو موضوع اچھا لگےاس پر لکھیں اور صرف پوسٹ کا بٹن دبائیں اور وہ پبلش ھو جائے گا نہ ويب سائٹ بنانے کی ضرورت نہ ڈومین ھوسٹنگ کا ایشو، اسکے بعد تو انٹرنیٹ پر کمانے کی دوڑ میں وہ اسٹوڈنٹ بھی آگئے جو رقم اورتجرب نہ ھونے کی وجہ سے ويب سائٹ نہیں بناسکتے تھے... قصہ مختصر یہ کہ گوگل کا جادو سر چڑہ کہ بولا اور انٹرنیٹ پر ھر ایک نے اپنی صلاحیت کے مطابق گوگل ايڈ سينس کے زریعے خوب کمایا، دھیرے دھیرے گوگل ايڈ سينس جیسی کئی ایک کمپنیاں مارکیٹ میں آئیں اور ويب سائٹ آنرز کے لیے کمانے کے نئے راستے متعارف کرانے لگیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری ھے۔
یہ ھے وہ دس سالہ سفر جو انٹرنیٹ پر کمانے کی جستجو سے شروع ھوا اور آج سو فیصد میری آمدنی کا واحد زریعہ ھے یعنی آج میرا گھر، میرا آفس، میرا اسٹاف کے تمام تر اخراجات صرف انٹرنیٹ سے حاصل آمدنی سے ھی ھوتے ھیں۔ کیا یہ ثبوت اس بات کےلیے کافی نہیں کہ گھر بیٹھے انٹرنیٹ پر کمایا جاسکتا ھے۔ مگر کیسے!!!
انٹرنیٹ پر کمانے کے کئی ایک طریقے اور کچھ بنیادی اصول بھی ھیں، عموما کام کرتے ھوے نہ ان اصولوں کو جاننے ک کوشیش کی جاتی اور نہ ھی اس کام کی مختصر تعلیم حاصل کی جاتی ھے، جب کہ اس بات سے کوئی بھی انکار نہیں کرے گا کہ ھر ھنر اور پیشہ کی تعلیم ضروری ھے، عمومی خیال یہ ھے کہ ھر انٹرنیٹ استعمال کرنے والا باآسانی کما سکتا ھے، جبکہ صحیح خیال یہ ھے کہ ھر وہ کما سکتا ھے جو انٹرنیٹ پر کام کے بنیادی اصولوں کا علم اور خیال رکھتا ھو۔ ایک خوشخبری سن لجیئے کہ انٹرنیٹ پر کمانے کے 100 سے زائد راستے ھیں اور سب کے سب قابل عمل مگر ابتدا میں آپ کو گھر بیٹھے انٹرنیٹ پر کمانے کے وہ راستے بتائے جائیں گئے جن پر محنت اور سرمایہ کم اور پارٹ ٹائم آمدنی بہتر ھو۔ اس میں سہرفہرست گوگل ايڈ سينس ھے، جس پر معمولی انوسمینٹ کے ساتھ اگر آپ روزانہ 1 تا 2 گھنٹے کام کیا جائے تو اس ھی مطابق 5 تا 10 ھزار پاکستانی روپے کمائے جاسکتے ھں۔
گوگل ايڈ سينس سے گھر بیٹھے آپ بھی اپنی آمدنی میں اضافہ کرسکتے ھیں
Visit Apna Work
Visit Apna Work











