Apna Work: 1 Number Automated Adsense Earning Program in Pakistan

گھر بیٹھے انٹرنیٹ پر کمائیں؟؟؟
تحریر: فیصل ملک ۔ اونر اپنا ورک ڈاٹ کوم
اپنا ورک ڈاٹ کوم کے اونر فیصل ملک پاکستان کے بہت سے انٹرنیٹ و دیگر میگزین میں گھر بیٹھے انٹرنیٹ پر کمانے کے حوالے سے آرٹیکل تحریر کرتے ھیں، اور ھر ماہ سپر اسٹار ڈسٹ میگزین میں ان کے انٹرنیٹ ٹپس باقائدگی سے شائع ھوتے ھیں جن سے آپ بھی فائدہ حاصل کرسکتے ھیں۔

Apan work detail آجکل باکستان کے تمام بڑے اخبارات میں گھر بیٹھے انٹرنیٹ پر کمانے کی پرکشش آفرز کے اشتہارات نوجوان طبقے اور خاص کر پارٹ ٹائم آمدنی کے خواہشمند افراد میں خاصے ھاٹ ھیں۔ تیز رفتار لائف میں کامیابی اور آمدنی کے شارٹ کٹ ہر اس انسان کی کمزوری رہی ھے جسے خود پر بھروسہ کم اور دوسرے کا دیا آسان آئیڈیا اپنے مسائل کا فوری حل نظر آتا ہے یوں ان اشتہارات پر رابطہ کرنے والے ناتجربہ کار افراد کی بھینٹ چڑھے اور مفت کا کام ھزاوں روپے ممبر شپ یا رجسٹریشن فیس ادا کرکے بھی نہ سیکھ اور سمجھ سکے اور نہ ہی کجھ کما پائے، پھر نتیجہ یہ نکلا انٹرنیٹ پر کمایا ھی نہیں جاسکتا یہ سب فراڈ ھے، دھوکہ ھے اور وقت کی بربادی۔ جبکہ میں پورے اعتماد اور یقین کیساتھ کہتا ھوں کہ گھر بیٹھے انٹرنیٹ پر کمایا جاسکتا ھے مگر کیسے یہ ھے وہ اہم سوال جسں کیلئے آج میں نے قلم اٹھایا ھے۔

Ghar Job: Pakistan's First Government Registered Online Jobs Providing Company

اس سوال کا جواب سے پہلے آپ کیلے یہ جاننا بہت ضروری ھے کہ آخر میں اتنے یقین سے یہ بات کیوں کررھا ھوں دراصل اسکے پیچھے میرا پندرہ سال کا تجربہ ھے میں سن 1998 میں غیر ارادی طور پر انٹرنیٹ بزنس میں آیا جب یاہو استعمال کرتے ھوئے یہ سوال زھن میں آیا کہ آخر یاہو نے کیوں اتنا سرمایہ لگا کر لوگوں کو مفت تفریح اور معلومات کیلئے ويب سائٹ بنائی اور یاہو کو اس کا کیا فائدہ ھے۔ یہ وہ دور تھا جب امریکہ میں کم بجٹ کی تفریحی ويب سائٹس روزآنہ آن لائن ہورہی تھیں کیونکہ یہ انٹرنیٹ کا ابتدائی دور تھا اسلئے اس وقت ایک کم بجٹ کی اچھی ويب سائٹ کم از کم 5000 امریکن ڈالر میں تیار ھوتی تھی، اسکے علاوہ ڈومین اور ھوسٹنگ کے سالانہ 400 ڈالر اور ھر ماہ ويب سائٹ اپ ڈیٹ رکھنے کیلئے ڈیولپر ڈیزائنر اور دوسرا اسٹاف بھی درکار ھوتا تھا جس پر ماہانہ خرچہ بھی لازمی ھے، سو میں اس سوال کا جواب حاصل کرنے میں لگ گیا کہ وہ امریکن قوم جو ٹائم از منی کے فلسفہ پر یفین رکھتی ھے اور کیوں اتنی رقم نو پرافٹ پروجیکٹ پر لگا رھی ھے۔

سچ پوچھیں تو اس سوال کا جواب پانے میں مجھے دو سال لگ گئے اور صرف یہ ہی معلوم ھو سکا کہ تین اقسام کی ويب سائٹ زیادہ بن رھی ھیں، ایک یاہو جیسی جو ایمیل اکاونٹ آفر کرتی ھیں اور اخبار یا میگزین کی طرز پر اپنی ويب سائٹ کیلئے بڑے اداروں کے اشتہارات سے لاکھوں کماتی ھیں، دوسری ای بے یا ایمزون جیسی جو پروڈکٹ کی معلومات فراھم کرکے کریڈیٹ کارڈ کے زریعے اپنی پروڈکٹ فروخت کررھی ھیں یعنی نیٹ شاپ جو ای بزنس کہلاتا ھے، اور تیسری وہ ھیں جو پروڈکٹ اوردیگر ٹائپ کی اشیا فروخت کرنے والی بڑی ويب سائٹ جیسے کمیشن جنکشن ، ویلیو کلک ، ایمزن ، ڈبل کلک اور کلک بینک وغیرہ کے ایفیلی ایٹ ممبر بنکر اپنی ويب سائٹ پر انکی پروڈکٹ مختلف انداز سے پرموٹ کرکے فروخت کرتے ھیں اور %50 تک کمیشن حاصل کرتے ھیں۔ یہ تھی جاننے کی ابتدا جس نے یہ سمجھایا کہ انٹرنیٹ پر کمایا جاسکتا ھے۔

ایفیلی ایٹ پروگرام کے بعد میرے علم میں آیا ایک سی پی اے پروگرام بھی ھے یعنی کوسٹ پر ایکشن اس پروگرام کے تحت اپنی ويب سائٹ پر بینر لگائیں جس پر نئی آفز آرھی ھونگی اور جو اس بینر پر کلک کرکے ويب سائٹ پر جا کر خریدای یا فارم فل کریگا تو کچھ فیصد رقم آپکو بھی ملیگی، اس ھی طرح ایک سی پی ایم پروگرام بھی تھا یعنی کوسٹ پر تھاوزینڈ مائل اس پروگرام کے تحت اپنی ويب سائٹ پر بینر لگائیں اور بینر ایک ھزار بار شو ھونے پر 10 تا 50 امریکی سینٹ ويب سائٹ آنر کو ادا کیے جاتے تھے، پھر ایک نیا پروگرام سی ٹی آر، سی پی سی، سی پی آئی، سی پی ڑی وغیرہ کے نام سے متعارف ھوئے ھر پروگرام میں ایک ويب سائٹ کا ھونا لازمی تھا جس پر ويب سائٹ آنر فری اکاؤنٹ سائن اپ کرکے انکے ایڈ لگا کر ڈالر کما سکتا تھا اور سو ڈالر ھونے پر گھر بیٹھے اپنے ایڈرس پر بزریعہ چیک رقم وصول کر سکتا تھا۔ اس دور میں ایمزن ، کمیشن جنکشن، ڈبل کلک، ایڈورٹائز، کلک بینک، ڈائریکٹ لیڈ، ویلیو کلک، فاسٹ کلک نامی ویب سائیٹس گھر بیٹھے انٹرنیٹ سے ڈالر کمانے کے حوالے سے مقبول ترین تصور کی جاتی تھیں۔

سن 2003 گھر بیٹھے انٹرنیٹ پر ڈالر کمانے والوں کے حوالے سے گولڈن سال کہا جاسکتا ھے جپ 1998 میں اسٹارٹ ہونے والی گوگل نامی ایک نئے سرچ انجن نے دو انوکھے پروگرام عوامی سطح پر متعارف کروائے گوگل ايڈ سينس اور گوگل ایڈورڈز، گوگل نے ان دونوں پروگرام کے طریقے بہت فرینڈلی رکھے جسکو اپنا اشتہار چلانا ھے گوگل ایڈورڈز کو رقم دے اور جسکو کمانا ھے وہ اپنی ويب سائٹ پر گوگل ايڈ سينس کا کوڈ لگائے، اشتہار پر کلک لگا اور ويب سائٹ مالک کو 2 سینٹ سے 5 ڈالر تک معاوضہ مل گیا، یوں جہاں اکاوئنٹ میں سو ڈالر ھوئے رقم بحفاظت آپ تک پہنچ گئی۔ گوگل ايڈ سينس کیا آیا لاکھوں ويب سائٹ آن لائن ھوگیں، گوگل نے موقع سے پورا فائدہ اٹھایا اور جو لوگ ويب سائٹ بنانا نہیں جانتے تھے ان کے لیے بلاگر کے نام سے ایک ایسی پروڈکٹ متعارف کی جس میں سب کچھ آٹو میٹیڈ تھا بس جو موضوع اچھا لگے اس پر لکھیں اور صرف پوسٹ کا بٹن دبائیں اور وہ پبلش ھو جائیگا نہ ويب سائٹ بنانے کی ضرورت نہ ڈومین ھوسٹنگ کا ایشو، اسکے بعد تو انٹرنیٹ پر کمانے کی دوڑ میں وہ اسٹوڈنٹ بھی آگئے جو رقم اور تجربہ نہ ھونے کی وجہ سے ويب سائٹ نہیں بناسکتے تھے... قصہ مختصر یہ کہ گوگل کا جادو سر چڑھ کر بولا اور انٹرنیٹ پر ھر ایک نے اپنی صلاحیت کے مطابق گوگل ايڈ سينس کے زریعے خوب کمایا، دھیرے دھیرے گوگل ايڈ سينس جیسی کئی ایک کمپنیاں مارکیٹ میں آئیں اور ويب سائٹ آنرز کیلئے کمانے کے نئے راستے متعارف کرانے لگیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری ھے۔

یہ ھے وہ پندرہ سالہ سفر جو انٹرنیٹ پر کمانے کی جستجو سے شروع ھوا اور آج انٹرنیٹ اور ويب سائٹس ہی میری آمدنی کا سو فیصد واحد زریعہ ھیں یعنی آج میرا گھر، میرا آفس، میرے اسٹاف کے تمام تر اخراجات صرف انٹرنیٹ سے حاصل آمدنی سے ھی ھوتے ھیں۔ کیا یہ ثبوت اس بات کیلئے کافی نہیں کہ گھر بیٹھے انٹرنیٹ پر کمایا جاسکتا ھے۔۔۔ مگر کیسے

انٹرنیٹ پر کمانے کے کئی ایک طریقے اور کچھ بنیادی اصول بھی ھیں، اس بات سے کوئی انکار نہیں کرے گا کہ ھر ھنر اور پیشہ کی تعلیم ضروری ھے، عموماً یہ سمجھا جاتا ھے کہ ھر انٹرنیٹ استعمال کرنے والا باآسانی کما سکتا ھے، جبکہ صحیح بات یہ ھے کہ صرف وہ ہی کما سکتا ھے جو انٹرنیٹ پر کام کے بنیادی اصولوں کا علم رکھتا ھو۔ یقین کریں انٹرنیٹ پر کمانے کے 100 سے زائد راستے ھیں اور سب کے سب قابل عمل مگر ابتدا میں آپکو گھر بیٹھے انٹرنیٹ پر کمانے کے وہ راستے بتائے جائیں گئے جن پر محنت اور سرمایہ کم اور پارٹ ٹائم آمدنی بہتر ھو۔ اس میں سہرفہرست گوگل ايڈ سينس ھے، جس پر معمولی انوسمینٹ کے ساتھ اگر آپ روزانہ 1 تا 4 گھنٹے کام کیا جائے تو اس ہی مطابق 5 تا 20 ھزار پاکستانی روپے باقائدگی کیساتھ کمائے جاسکتے ھیں۔

گوگل ايڈ سينس سے گھر بیٹھے آپ بھی اپنی آمدنی میں اضافہ کرسکتے ھیں
Visit Apna Work

Apna Work Pakistan
آج ھی لرنگ اینڈ ارنگ پروگرام کا آرڈر دیجئے
چار ڈی وی ڈی پر مشتعمل کورس کی قیمت 7950 روپے
اگر آپ واقعی اپنے بہتر کل کیلئے سنجیدہ ھیں اور آج سیکھیں کل کمائیں کی پالیسی اپنانے کو تیار ھیں تو مذید وقت ضائع نہ کریں آج ھی لرنگ اینڈ ارنگ پروگرام کا آرڈر دیجئے اور زیرو دھوکہ فراڈ کے بغیر گھر بیٹھے کورس کا پیکٹ وصول کرتے وقت 7950 روپے کیش اون ڈلیوری ادا کریں۔
ORDER NOW: 031-APNA-WORK (0312-7629675) ORDER NOW: 031-APNA-WORK (0312-7629675)

Apna Work
اپنا ورک کیا ھے
اپنا ورک کیا ھے مکمل معلومات کیلئے اس لنک کو کلک کریں
Apna Work Complete A 2 Z Details